MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہم ہی میں تھی نہ کوئی بات یاد نہ تم کو آ سکے

ہم ہی میں تھی نہ کوئی بات یاد نہ تم کو آ سکےتم نے ہمیں بھلا دیا ہم نہ تمہیں بھلا سکے تم ہی نہ سن سکے اگر قصۂ غم سنے گا کونکس کی زباں کھلے گی پھر ہم نہ اگر سنا سکے ہوش میں آ چکے تھے ہم جوش میں آ چکے تھے ہمبزم

ہم ہی میں تھی نہ کوئی بات یاد نہ تم کو آ سکے Read More »

راہ دور عشق میں روتا ہے کیا

راہ دور عشق میں روتا ہے کیاآگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا قافلے میں صبح کے اک شور ہےیعنی غافل ہم چلے سوتا ہے کیا سبز ہوتی ہی نہیں یہ سرزمیںتخم خواہش دل میں تو بوتا ہے کیا یہ نشان عشق ہیں جاتے نہیںداغ چھاتی کے عبث دھوتا ہے کیا غیرت یوسف ہے یہ وقت

راہ دور عشق میں روتا ہے کیا Read More »

اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا

اشک آنکھوں میں کب نہیں آتالوہو آتا ہے جب نہیں آتا ہوش جاتا نہیں رہا لیکنجب وہ آتا ہے تب نہیں آتا صبر تھا ایک مونس ہجراںسو وہ مدت سے اب نہیں آتا دل سے رخصت ہوئی کوئی خواہشگریہ کچھ بے سبب نہیں آتا عشق کو حوصلہ ہے شرط ارنہبات کا کس کو ڈھب نہیں

اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا Read More »

یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں

یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوںاب دو تو جام خالی ہی دو میں نشے میں ہوں ایک ایک قرط دور میں یوں ہی مجھے بھی دوجام شراب پر نہ کرو میں نشے میں ہوں مستی سے درہمی ہے مری گفتگو کے بیچجو چاہو تم بھی مجھ کو کہو میں نشے میں ہوں یا

یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں Read More »

کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشق

کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشقجان کا روگ ہے بلا ہے عشق عشق ہی عشق ہے جہاں دیکھوسارے عالم میں بھر رہا ہے عشق عشق ہے طرز و طور عشق کے تئیںکہیں بندہ کہیں خدا ہے عشق عشق معشوق عشق عاشق ہےیعنی اپنا ہی مبتلا ہے عشق گر پرستش خدا کی ثابت

کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشق Read More »

دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے

دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہےیہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے گور کس دل جلے کی ہے یہ فلکشعلہ اک صبح یاں سے اٹھتا ہے خانۂ دل سے زینہار نہ جاکوئی ایسے مکاں سے اٹھتا ہے نالہ سر کھینچتا ہے جب میراشور اک آسماں سے اٹھتا ہے لڑتی ہے اس کی چشم

دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے Read More »

ہستی اپنی حباب کی سی ہے

ہستی اپنی حباب کی سی ہےیہ نمائش سراب کی سی ہے نازکی اس کے لب کی کیا کہیےپنکھڑی اک گلاب کی سی ہے چشم دل کھول اس بھی عالم پریاں کی اوقات خواب کی سی ہے بار بار اس کے در پہ جاتا ہوںحالت اب اضطراب کی سی ہے نقطۂ خال سے ترا ابروبیت اک

ہستی اپنی حباب کی سی ہے Read More »

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیادیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا عہد جوانی رو رو کاٹا پیری میں لیں آنکھیں موندیعنی رات بہت تھے جاگے صبح ہوئی آرام کیا حرف نہیں جاں بخشی میں اس کی خوبی اپنی قسمت کیہم سے جو پہلے کہہ بھیجا سو مرنے

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا Read More »

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہےجانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے لگنے نہ دے بس ہو تو اس کے گوہر گوش کو بالے تکاس کو فلک چشم مہ و خور کی پتلی کا تارا جانے ہے آگے اس متکبر کے ہم خدا خدا کیا کرتے ہیںکب موجود

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے Read More »

دھوم تھی اپنی پارسائی کی

دھوم تھی اپنی پارسائی کیکی بھی اور کس سے آشنائی کی کیوں بڑھاتے ہو اختلاط بہتہم کو طاقت نہیں جدائی کی منہ کہاں تک چھپاؤ گے ہم سےتم کو عادت ہے خود نمائی کی لاگ میں ہیں لگاؤ کی باتیںصلح میں چھیڑ ہے لڑائی کی ملتے غیروں سے ہو ملو لیکنہم سے باتیں کرو صفائی

دھوم تھی اپنی پارسائی کی Read More »