MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

حق وفا کے جو ہم جتانے لگے

حق وفا کے جو ہم جتانے لگےآپ کچھ کہہ کے مسکرانے لگے تھا یہاں دل میں طعن وصل عدوعذر ان کی زباں پہ آنے لگے ہم کو جینا پڑے گا فرقت میںوہ اگر ہمت آزمانے لگے ڈر ہے میری زباں نہ کھل جائےاب وہ باتیں بہت بنانے لگے جان بچتی نظر نہیں آتیغیر الفت بہت

حق وفا کے جو ہم جتانے لگے Read More »

ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں

ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاںاب ٹھہرتی ہے دیکھیے جا کر نظر کہاں ہیں دور جام اول شب میں خودی سے دورہوتی ہے آج دیکھیے ہم کو سحر کہاں یا رب اس اختلاط کا انجام ہو بخیرتھا اس کو ہم سے ربط مگر اس قدر کہاں اک عمر چاہیئے کہ گوارا ہو

ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں Read More »

گوہ شفا سے یاس پہ جب تک ہے دم میں دم

گوہ شفا سے یاس پہ جب تک ہے دم میں دمبن آئیگی نہ درد کا درماں کئے بغیر بگڑی ہوئی بہت ہے کچھ اسباغ کی ہوایہ باغ کو رہے گی نہ ویراں کئے بغیر مشکل بہت ہے گو کہ مٹانا سلف کا ناممشکل کو ہم ٹلیں گے نہ آساں کئے بغیر گو مے ہ تندو

گوہ شفا سے یاس پہ جب تک ہے دم میں دم Read More »

دیکھ اے امید کہ جو، ہم سے نہ تو کنارا

دیکھ اے امید کہ جو، ہم سے نہ تو کناراتیرا ہی رہ گیا ہے لے دے کے اک سہارا یوں بے سبب زمانہ پھرتا نہیں کسی سےاے آسماں کچھ اس میں تیرا بھی ہے اشارا میخانہ کی خرابی جی دیکھ کر بھر آیا مدت کے بعد کل واں جا نکلے تھے قضا را اک شخص

دیکھ اے امید کہ جو، ہم سے نہ تو کنارا Read More »

دھوم تھی اپنی پارسائی کی

دھوم تھی اپنی پارسائی کیکی بھی اور کسی سے آشنائی کی کیوں بڑھاتے ہو اخلاط بہتہم کو طاقت نہیں جدائی کی منہ کہاں چھپاؤ گے ہم سےتم کو عادت ہے خود نمائی کی لاگ میں ہیں لگاؤ کی باتیںصلح میں چھیڑ ہے لڑائی کی ملتے غیروں سے ہو ملو لیکنہم سے باتیں کرو صفائی کی

دھوم تھی اپنی پارسائی کی Read More »

درد دل کو دوا سے کیا مطلب

درد دل کو دوا سے کیا مطلبکیمیا کو طلا سے کیا مطلب جو کرینگے بھرینگے خود واعظتم کو میری خطا سے کیا مطلب جن کے معبود حورو غلماں ہیںان کو زاہد خدا سے کیا مطلب کام ہے مردمی سے انساں کیزبد یا اتقا سے کیا مطلب صوفی شہرِ با صفا ہے اگرہو ہماری بلا سے،

درد دل کو دوا سے کیا مطلب Read More »

غالب و شیفتہ و آزردہ و ذوق

غالب و شیفتہ و آزردہ و ذوقاب دکھائے گا یہ شکلیں نہ زمانہ ہرگز مومن و علوی و صہبائی و ممنون کے بعدشعر کا نام نہ لے گا کوئی دانا ہرگز کر دیا مر کے یگانوں نے یگانہ ہم کوورنہ یاں کوئی نہ تھا ہم میں یگانہ ہرگز داغ و مجروح کو سن لو کہ

غالب و شیفتہ و آزردہ و ذوق Read More »

حسن کی تم پر حکومت ہو گئی

حسن کی تم پر حکومت ہو گئیضبط آنکھوں کی مرّوت ہو گئی یہ نہ پوچھو کیوں یہ حالت ہو گئیخود بدولت کی بدولت ہو گئی لے گئے آنکھوں ہی آنکھوں میں وہ دلہوشیاری اپنی غفلت ہو گئی وہ جو تجھ سے دوستی کرنے لگامجھ کو دشمن سےمحبت ہو گئی اس قدر بھی سادگی اچھی نہیںعاشقوں

حسن کی تم پر حکومت ہو گئی Read More »

دنیا میں آدمی کو مصیبت کہاں‌ نہیں

دنیا میں آدمی کو مصیبت کہاں‌ نہیںہ کون سی زمیں ہے جہاں آسماں نہیں کس طرح جان دینے کے اقرار سے پھروںمیری زبان ہے یہ تمہاری زباں نہیں اے موت تو نے دیر لگائی ہے کس لیئےعاشق کا امتحان ہے تیرا امتحان نہیں تنہا بھی جب رہے تو وہ رہتے ہیں‌ہوشیارخود اپنے پاسباں‌ ہیں اگر

دنیا میں آدمی کو مصیبت کہاں‌ نہیں Read More »

مہرباں ہو کے جب ملیں گے آپ

مہرباں ہو کے جب ملیں گے آپجو نہ ملتے تھے سب ملیں گے آپ آپ کیوں‌خاک میں‌ملاتے ہیںہم مصیبت طلب ملیں گے آپ کارواں کی تلاش کیا اے دلآ کے منزل پہ سب ملیں گے آپ ایک تو وعدہ اور اُس پہ قسمیہ یقیں ہے کہ اب ملیں گے آپ داغ اک آدمی ہے گرما

مہرباں ہو کے جب ملیں گے آپ Read More »