MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

مانندِ گل ہیں‌ میرے جگر میں‌ چراغِ داغ

مانندِ گل ہیں‌ میرے جگر میں‌ چراغِ داغپروانے دیکھتے ہیں تماشائے باغِ داغ مرگِ عدو سے آپ کے دل میں چھپُا نہ ہومیرے جگر میں اب نہیں ملتا سراغِ داغ دل میں قمر کے جب سے ملی ہے اسے جگہاس دن سے ہو گیا ہے فلک پر دماغِ داغ تاریکیِ لحد سے نہیں دل جلے

مانندِ گل ہیں‌ میرے جگر میں‌ چراغِ داغ Read More »

تو نے کی غیر سے کل میری بُرائی کیوں کر

تو نے کی غیر سے کل میری بُرائی کیوں کرگر نہ تھی دل میں تو لب پر تیرے آئی کیوں کر نہ کہوں گا نہ کہوں گا نہ کہوں گا ہر گزجا کے اُس بزم میں شامت میری آئی کیوں ‌کر کھُل گئی بات جب اُن کی تو وہ یہ پوچھتے ہیںمنہ سے نکلی ہوئی

تو نے کی غیر سے کل میری بُرائی کیوں کر Read More »

دل میں ہے غم و رنج و الم، حرص و ہوا بند

دل میں ہے غم و رنج و الم، حرص و ہوا بنددنیا میں مخمس کا ہمارے نہ کھلا بند موقوف نہیں دام و قفس پر ہی اسیریہر غم میں گرفتار ہوں ہر فکر میں پابند اے حضرت دل !جائیے، میرا بھی خدا ہےبے آپ کے رہنے کا نہیں کام مرا بند دم رکتے ہی سینہ

دل میں ہے غم و رنج و الم، حرص و ہوا بند Read More »

عجب اپنا حال ہوتا، جو وصال یار ہوتا

عجب اپنا حال ہوتا، جو وصال یار ہوتا کبھی جان صدقے ہوتی، کبھی دل نثار ہوتا کوئی فتنہ تا قیامت نہ پھر آشکار ہوتا ترے دل پہ کاش ظالم مجھے اختیار ہوتا جو تمہاری طرح تم سے کوئی جھوٹے وعدے کرتا تمہیں منصفی سے کہہ دو تمہیں اعتبار ہوتا غمِ عشق میں مزا تھا جو

عجب اپنا حال ہوتا، جو وصال یار ہوتا Read More »

وہ زمانہ نظر نہیں آتا

وہ زمانہ نظر نہیں آتا کچھ ٹھکانہ نظر نہیں آتا دل نے اس بزم میں بٹھا تو دیا اٹھ کے جانا نظر نہیں آتا رہئے مشتاق جلوہ دیدار ہم نے مانا نظر نہیں آتا لے چلو مجھکو رہروان عدم یہاں ٹھکانہ نظر نہیں آتا دل پر آرزو لٹا اے داغ وہ خزانہ نظر نہیں آتا

وہ زمانہ نظر نہیں آتا Read More »

یہ تو میں کیونکر کہوں تیرے خریداروں میں ہوں

یہ تو میں کیونکر کہوں تیرے خریداروں میں ہوں تو سراپا ناز ہے میں ناز برداروں میں ہوں وصل کیسا تیرے نادیدہ خریداروں میں ہوں واہ رے قسمت کہ اس پر بھی گنہ گاروں میں ہوں حشر میں اتنا کہوں گا اس سے میں محروم وصل پاک دامن تو ہے میں کیونکر گنہ گاروں میں

یہ تو میں کیونکر کہوں تیرے خریداروں میں ہوں Read More »

وصل کی رات تو راحت سے بسر ہونے دو

وصل کی رات تو راحت سے بسر ہونے دو شام ہی سے ہے یہ دھمکی کہ سحر ہونے دو ناوک ناز کا پہلو میں گزر ہونے دو کب سے برباد ہے آباد یہ گھر ہونے دو دیکھنا کیسی برابر کی پڑیں گی چوٹیں یار کا آئینہ خانے میں گزر ہونے دو وصل ہو قتل ہو

وصل کی رات تو راحت سے بسر ہونے دو Read More »

تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر

تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر سرفروشی کی تمنا ہے تو سر پیدا کر کوہ کن کوہ کنی شیوۂ عشاق نہیں ہے جو عاشق دل معشوق میں گھر پیدا کر رنگ چاہے اگر اس باغ میں آزادی کا نکہت گل کی طرح شوق سفر پیدا کر قطرۂ اشک بنے گوہر گوش جاناں

تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر Read More »

فراق یار نے بے چین مجھ کو رات بھر رکھا

فراق یار نے بے چین مجھ کو رات بھر رکھا کبھی تکیہ ادھر رکھا کبھی تکیہ ادھر رکھا شکست دل کا باقی ہم نے غربت میں اثر رکھا لکھا اہل وطن کو خط تو اک گوشہ کتر رکھا برابر آئینے کے بھی نہ سمجھے قدر وہ دل کی اسے زیر قدم رکھا اسے پیش نظر

فراق یار نے بے چین مجھ کو رات بھر رکھا Read More »

چاند سا چہرہ نور کی چتون ماشاء اللہ ماشاء اللہ

چاند سا چہرہ نور کی چتون ماشاء اللہ ماشاء اللہ طرفہ نکالا آپ نے جوبن ماشاء اللہ ماشاء اللہ گل رخ نازک زلف ہے سنبل آنکھ ہے نرگس سیب زنخداں حسن سے تم ہو غیرت گلشن ماشاء اللہ ماشاء اللہ ساقیٔ بزم روز ازل نے بادۂ حسن بھرا ہے اس میں آنکھیں ہیں ساغر شیشہ

چاند سا چہرہ نور کی چتون ماشاء اللہ ماشاء اللہ Read More »