گھر گھر تجلیاں ہیں طلب گار بھی تو ہو
گھر گھر تجلیاں ہیں طلب گار بھی تو ہو موسیٰ سا کوئی طالب دیدار بھی تو ہو دل درد ناک چاہیے لاکھوں ہیں خوبرو عیسیٰ ہیں سیکڑوں کوئی بیمار بھی تو ہو گر ہم نہیں تو رونق بازار عشق کیا اے حسن خود فروش خریدار بھی تو ہو پردے میں چاہتا ہے کہ ہنگامہ ہو
گھر گھر تجلیاں ہیں طلب گار بھی تو ہو Read More »