MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہیں موسم رنگ کے کتنے گنوائے، میں نہیں گِنتا

Hain mosam rang ky kitne ginwae, main nahi ginta ہیں موسم رنگ کے کتنے گنوائے، میں نہیں گِنتا ہوئے کتنے دن اس کوچے سے آئے، میں نہیں گِنتا بھلا خود میں کب اپنا ہوں، سو پھر اپنا پرایا کیا ہیں کتنے اپنے اور کتنے پرائے میں نہیں گِنتا لبوں کے بیچ تھا ہر سانس اک

ہیں موسم رنگ کے کتنے گنوائے، میں نہیں گِنتا Read More »

تعمیر کر رہا ہے نیا راستہ مزاج

Tameer Kar Raha Hay Niya Rasta Mizaaj غزل تعمیر کر رہا ہے نیا راستہ مزاجیعنی کے مجھ پہ ہو گیا قابض مرا مزاج ہاتھوں میں لے کے پھرتا ہوں حسرت کے آئنےلایا ہے کس ڈگر پہ مجھے سر پھرا مزاج وہ پاس ہو کے دور ہے میں دور ہوکے پاسدونوں کے درمیان ہے اچھا برا

تعمیر کر رہا ہے نیا راستہ مزاج Read More »