MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

فاقہ کشی کے رنگ نہ دل کے ملال کھینچ

Faqa Kashi Kay Rang Na dil kay Malal Kheench فاقہ کشی کے رنگ نہ دل کے ملال کھینچتصویرِ کائنات کوئی لازوال کھینچ آئے گا بور سونے تخیل کی شاخ پراس زردیِ ملال سے رمزِ کمال کھینچ رہنا ہے مجھ کو ہونے نہ ہونے کے درمیاںبازو پکڑ کے مجھ کو نہ اے خوش جمال کھینچ آ

فاقہ کشی کے رنگ نہ دل کے ملال کھینچ Read More »

پتنگِ شاعری کہنے کو تو تنی ہوئی ہے

Patang e Shairy Kehnay ko tu Tani hoi hay غزل پتنگِ شاعری کہنے کو تو تنی ہوئی ہےخبر کسی کو نہیں جان پر بنی ہوئی ہے رہے گی جسم پہ قائم قبائے جاہ و جلالیہ روح جسم سے جب تک مرے منی ہوئی ہے میں وہ چراغ ہوں دل کے مزار کا جس کینسیمِ صبحِ

پتنگِ شاعری کہنے کو تو تنی ہوئی ہے Read More »

لبوں سے نکلی ہوئی کیا کوئی دعا ہوں میں

Laboon Say Nikli Hoi kia Koi Dua Hoon Main غزل لبوں سے نکلی ہوئی کیا کوئی دعا ہوں میںجو آسمانِ وفا میں بھٹک رہا ہوں میں میں دشتِ دل کا مسافر ہوں ایک مدت سےخضر نما کئی چہروں سے مل چکا ہوں میں تلاش کرتی ہے مجھ کو ادھر ادھر پگلیترے ہی سینے میں دھک

لبوں سے نکلی ہوئی کیا کوئی دعا ہوں میں Read More »

جس کا جواب ہے نہیں وہ بے وفا نہ پوچھ

Jis Ka jawab Hay Nahi wo Bay wafa na pooch غزل جس کا جواب ہے نہیں وہ بے وفا نہ پوچھخود پی کے دیکھ جامِ اجل ذائقہ نہ پوچھ ہوتا نہیں ہوں خود کو کبھی دستیاب میںتصویر کھینچ لے مری میرا پتہ نہ پوچھ سونے دے یار سونے دے زخموں کو چھیڑ متتجھ کو بتا

جس کا جواب ہے نہیں وہ بے وفا نہ پوچھ Read More »

نہ جیتے ہیں نہ مرتے ہیں بہت مشکل میں رہتے ہیں

نہ جیتے ہیں نہ مرتے ہیں بہت مشکل میں رہتے ہیںترے دل میں نہیں ہم خیمہِ قاتل میں رہتے ہیں بساطِ زندگی پر شورشِ رنج و الم سہہ کربہت مصروف ہم تخلیقِ لا حاصل میں رہتے ہیں لگا کر آبلوں پر ہونٹ صحرائے یقیں تیرےمرے اشعار کاغذ کے دھڑکتے دل میں رہتے ہیں انہیں معلوم

نہ جیتے ہیں نہ مرتے ہیں بہت مشکل میں رہتے ہیں Read More »