مایوسیوں کو اوڑھ کے سونا پڑا ہمیں
غزل مایوسیوں کو اوڑھ کے سونا پڑا ہمیں دن کو ہنسے تو رات کو رونا پڑا ہمیں وہ جس کو ڈھونڈنے میں گزاری تمام عمر یہ کیا ستم کہ پھر اسے کھونا پڑا ہمیں یہ اختیاری فیصلہ تھا یا کچھ اور تھا تم سے ملے تو پھر جدا ہونا پڑا ہمیں وہ ایک نام چاہ […]
مایوسیوں کو اوڑھ کے سونا پڑا ہمیں Read More »