MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

مایوسیوں کو اوڑھ کے سونا پڑا ہمیں

غزل مایوسیوں کو اوڑھ کے سونا پڑا ہمیں دن کو ہنسے تو رات کو رونا پڑا ہمیں وہ جس کو ڈھونڈنے میں گزاری تمام عمر یہ کیا ستم کہ پھر اسے کھونا پڑا ہمیں یہ اختیاری فیصلہ تھا یا کچھ اور تھا تم سے ملے تو پھر جدا ہونا پڑا ہمیں وہ ایک نام چاہ […]

مایوسیوں کو اوڑھ کے سونا پڑا ہمیں Read More »

ہم سفر کہاں پہنچے کچھ پتا نہیں ملتا

غزل ہم سفر کہاں پہنچے کچھ پتا نہیں ملتا راستے ہیں سب چپ چپ نقش پا نہیں ملتا ان حسین لمحوں کو بھولنا بھی کب چاہوں لیکن اس کی یادوں میں وہ مزا نہیں ملتا زیست کے سفر میں بھی روح کے نگر میں بھی اس کو ڈھونڈھتی ہوں میں اور پتا نہیں ملتا کون

ہم سفر کہاں پہنچے کچھ پتا نہیں ملتا Read More »

خامشی میں کبھی صداؤں میں

غزل خامشی میں کبھی صداؤں میں کھو گئی اجنبی فضاؤں میں نہ سفر ہے نہ ہے سکون مجھے کیسی گردش ہے میرے پاؤں میں چیختی ہے یہ تیرگی شب کی چاند خاموش ہے گھٹاؤں میں کیا ہے جو خاک پر نہیں موجود ڈھونڈتے ہیں کسے خلاؤں میں سانس لیتے ہوئے بھی ڈرتی ہوں کس قدر

خامشی میں کبھی صداؤں میں Read More »

تجھ کو آساں نہیں بھلا دینا

غزل تجھ کو آساں نہیں بھلا دینا زخم دل دل میں ہی دبا دینا تھک گئے تیرے آبلہ پا اب عمر کی مت ہمیں دعا دینا کب کیا عدل منصفوں نے یہاں اور مظلوم کو دبا دینا تاراؔ دنیا میں جی نہیں لگتا جانے والو ہمیں بھلا دینا طاہرہ جبین طارا

تجھ کو آساں نہیں بھلا دینا Read More »

بوجھ دل کا بھی ہم اتار آئے

غزل بوجھ دل کا بھی ہم اتار آئے زندگی تیرے در پہ وار آئے وہی گھڑیاں عزیز ہیں ہم کو جو محبت میں تیری ہار آئے رک گیا آنکھ میں وہ اک موسم اب خزاں آئے یا بہار آئے میں جتن بھولنے کے اس کو کروں یاد جو مجھ کو بار بار آئے طاہرہ جبین

بوجھ دل کا بھی ہم اتار آئے Read More »

پیار محبت قسمیں وعدے سب جھوٹے افسانے ہیں

غزل پیار محبت قسمیں وعدے سب جھوٹے افسانے ہیں سچی باتیں لکھ کر ہم کو اپنے یار گنوانے ہیں اس اندھیر نگر میں ہم کو پیار کی ہے امید ابھی ہم کو دیکھو دنیا والو ہم کیسے دیوانے ہیں ہر ساتھی کے دل میں ہم نے جھانک کے اکثر دیکھا ہے ملتے ہیں سب اپنے

پیار محبت قسمیں وعدے سب جھوٹے افسانے ہیں Read More »

خواب ڈستے رہے بکھرتے رہے

غزل خواب ڈستے رہے بکھرتے رہے کرب کے لمحے یوں گزرتے رہے کھو گئے یار ہم سفر بچھڑے دل میں دکھ ہجر کے اترتے رہے ہے یہی ایک زیست کا درماں اشک آنکھوں کے دل میں گرتے رہے چھا گئیں ظلمتیں زمانے میں لاشے ہر سمت ہی بکھرتے رہے لاکھ ہم تجھ کو بھولنا چاہیں

خواب ڈستے رہے بکھرتے رہے Read More »

یہ آنکھ نم تھی زباں پر مگر سوال نہ تھا

غزل یہ آنکھ نم تھی زباں پر مگر سوال نہ تھا ہم اپنی ذات میں گم تھے کوئی خیال نہ تھا سجا لیا ہے ہتھیلی پہ ہم نے اس کا نام اس لیے تو بچھڑ جانے کا ملال نہ تھا اگرچہ معتبر ٹھہرے تھے ہم زمانے میں ہمارے پاس تو ایسا کوئی کمال نہ تھا

یہ آنکھ نم تھی زباں پر مگر سوال نہ تھا Read More »

کاغذ پہ تیرا نقش اتارا نہیں گیا

غزل کاغذ پہ تیرا نقش اتارا نہیں گیا مجھ سے کوئی خیال سنوارا نہیں گیا مل کے لگا ہے آج زمانے ٹھہر گئے تجھ سے بچھڑ کے وقت گزارا نہیں گیا طوفان میں بھی ڈوب نہ پائی مری انا ڈوبا مگر کسی کو پکارا نہیں گیا خوشیوں کے قہقہے ہیں ہر اک سمت گونجتے لگتا

کاغذ پہ تیرا نقش اتارا نہیں گیا Read More »

دل و جان اس پہ لٹاتا رہوں

غزل دل و جان اس پہ لٹاتا رہوں میں فرقت میں دل کو جلاتا رہوں ملیں گی کبھی تو مجھے منزلیں مقدر کو میں آزماتا رہوں وہ ملنے مجھے آئیں گے ایک دن مرا کام ہے کہ بلاتا رہوں مرے پاس اس کی جو تصویر ہے اسی سے میں دل کو لبھاتا رہوں بہت خوب

دل و جان اس پہ لٹاتا رہوں Read More »