ادائے حیرت آئینہ گر بھی رکھتے ہیں
غزل ادائے حیرت آئینہ گر بھی رکھتے ہیں ہمیں نہ چھیڑ کہ اب تک نظر بھی رکھتے ہیں نہ گرد و پیش سے اس درجہ بے نیاز گزر جو بے خبر سے ہیں سب کی خبر بھی رکھتے ہیں کہاں گیا تری محفل میں زعم دیدہ وراں یہ حوصلہ تو یہاں کم نظر بھی رکھتے […]
ادائے حیرت آئینہ گر بھی رکھتے ہیں Read More »