MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ادائے حیرت آئینہ گر بھی رکھتے ہیں

غزل ادائے حیرت آئینہ گر بھی رکھتے ہیں ہمیں نہ چھیڑ کہ اب تک نظر بھی رکھتے ہیں نہ گرد و پیش سے اس درجہ بے نیاز گزر جو بے خبر سے ہیں سب کی خبر بھی رکھتے ہیں کہاں گیا تری محفل میں زعم دیدہ وراں یہ حوصلہ تو یہاں کم نظر بھی رکھتے […]

ادائے حیرت آئینہ گر بھی رکھتے ہیں Read More »

جاتے ہوئے نگاہ ادھر کر کے دیکھ لو

غزل جاتے ہوئے نگاہ ادھر کر کے دیکھ لو ہم لوگ پھر کہاں ہمیں جی بھر کے دیکھ لو دیتا ہے اب یہی دل شوریدہ مشورہ جینے سے تنگ ہو تو میاں مر کے دیکھ لو رہنے کا دشت میں بھی سلیقہ نہیں گیا یاں بھی قرینے سارے مرے گھر کے دیکھ لو شاہان کج

جاتے ہوئے نگاہ ادھر کر کے دیکھ لو Read More »

حسیں ہے شہر تو عجلت میں کیوں گزر جائیں

غزل حسیں ہے شہر تو عجلت میں کیوں گزر جائیں جنون شوق اسے بھی نہال کر جائیں یہ اور بات کہ ہم کو نظر نہیں آئے مگر وہ ساتھ ہی رہتے ہیں ہم جدھر جائیں حیات عشق کا مقصود بن گئی آخر یہ آرزو کہ ترا نام لے کے مر جائیں یہ راہ عشق ہے

حسیں ہے شہر تو عجلت میں کیوں گزر جائیں Read More »

عشق میں تڑپنے کی تب نظیر ہوتا ہے

غزل عشق میں تڑپنے کی تب نظیر ہوتا ہے دل کسی کی زلفوں کا جب اسیر ہوتا ہے اور کسی کے بارے میں سوچتا نہیں ہے وہ خواہشوں کا اپنی ہی جو اسیر ہوتا ہے اور بھی حسیں ہوتے ہیں مگر مِرے نزدیک یار میرا محفل میں بے نظیر ہوتا ہے لوگ دوسرے تو تسلیم

عشق میں تڑپنے کی تب نظیر ہوتا ہے Read More »

رات ہو کہ دن ہو وہ اشکبار رہتا ہے

غزل رات ہو کہ دن ہو وہ اشکبار رہتا ہے شہر میں ترے بھی اک غمگسار رہتا ہے منحصر ہے یہ سب کچھ اپنی گفتگو ہی پر ٹھیک ہو زباں تو پھر زندہ پیار رہتا ہے بے سلیقہ ہوتا ہے جو بھی ذات میں اپنی بزم میں تری وہ ہی بے وقار رہتا ہے اعتدال

رات ہو کہ دن ہو وہ اشکبار رہتا ہے Read More »

تو پورے شوق سے کر پوری بات اپنی

غزل تو پورے شوق سے کر پوری بات اپنی ترے قدموں میں رکھ دی ہے حیات اپنی اسیر زلف بن کر کھو دی آزادی اسیری میں نہ دن اپنا ،نہ رات اپنی کہیں بہہ ہی نہ جائے اشک بن بن کر ان آنکھوں میں ہے پنہاں کائنات اپنی نچھاور کر دیا سب کچھ میں نے

تو پورے شوق سے کر پوری بات اپنی Read More »

مواقع عشق کے وہ اب کہاں ہیں

غزل مواقع عشق کے وہ اب کہاں ہیں ادائیں یار کی درد زباں ہیں نہیں بنتی ہے آپس میں کوئی بات ہمارے درمیاں کچھ تلخیاں ہیں ہمیں ملنے نہیں اب کوئی آتا مقدر میں یہی تنہائیاں ہیں ہیں یہ بھی ایک حصہ زندگی کا ادھر دکھ ہیں ادھر شہنائیاں ہیں پلٹ کر جا نہیں سکتے

مواقع عشق کے وہ اب کہاں ہیں Read More »

زیاں ہی ہے زیاں ہم سے نہ پوچھو

غزل زیاں ہی ہے زیاں ہم سے نہ پوچھو یہ غیروں کی زباں ہم سے نہ پوچھو سنا سکتے نہیں حال الم میں ہماری داستاں ہم سے نہ پوچھو ہم اپنی ذات تک محدود ہیں دوست خیال عاشقاں ہم سے نہ پوچھو رہے ہیں زندگی بھر سادگی سے خرافات جہاں ہم سے نہ پوچھو کرو

زیاں ہی ہے زیاں ہم سے نہ پوچھو Read More »

غزل اب افسوس کرنے سے کیا ہوگا حاصل ہماری تباہی میں تم بھی تھے شامل قیامت جو گزری ہے ہم پر جہاں میں نہیں اس میں اپنی خطا کوئی شامل بس آنکھوں میں آئے ہوئے اشک پی کر دل غم زدہ پر تو رکھ صبر کامل ہے قبضہ سبھی ساحلوں پر عدو کا کہیں بھی

Read More »

شہر سخن کا سالار احسان سہگل

شہر سخن کا سالار احسان سہگل احسان سہگل ، پیدائشی نام خواجہ احسان الٰہی سہگل نیدر لینڈ میں مقیم اردو ,انگریزی کے شاعر، ادیب، صحافی اور اسکالر ہیں, جن کا تعلق پاکستان  سے ہے۔  وہ مارشل لاء کے دور اور ضیا الحق کی زیر قیادت سیاسی کش مکش سے بچنے کے لیے نیدرلینڈ چلے گئے۔ تب

شہر سخن کا سالار احسان سہگل Read More »