MOJ E SUKHAN

مایوسیوں کو اوڑھ کے سونا پڑا ہمیں

غزل

مایوسیوں کو اوڑھ کے سونا پڑا ہمیں
دن کو ہنسے تو رات کو رونا پڑا ہمیں

وہ جس کو ڈھونڈنے میں گزاری تمام عمر
یہ کیا ستم کہ پھر اسے کھونا پڑا ہمیں

یہ اختیاری فیصلہ تھا یا کچھ اور تھا
تم سے ملے تو پھر جدا ہونا پڑا ہمیں

وہ ایک نام چاہ سے لکھا تھا بارہا
دل سے اسے پھر آنکھ سے دھونا پڑا ہمیں

تاراؔ کنارے آ لگی کشتی جب ایک دم
گرداب میں پھر آپ کو کھونا پڑا ہمیں

طاہرہ جبین تارا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم