MOJ E SUKHAN

آنکھ پتھر کی طرح عکس سے خالی ہوگی

غزل

آنکھ پتھر کی طرح عکس سے خالی ہوگی
خون ناحق کی مگر جسم پہ لالی ہوگی

مل کے بیٹھیں گے وہی لوگ ادھورے آدھے
پھر وہی میز وہی سرد پیالی ہوگی

ایسے موسم میں وہ چپ چاپ نظر جو آیا
اس نے آنکھوں میں کوئی شکل بسا لی ہوگی

میں نے جو چیز گنوا دی اسے ہیرا کہہ کے
کسی نادار مسافر نے اٹھا لی ہوگی

اس کو لفظوں میں اتاروں تو ورق ہوں روشن
اس کی تصویر بنا لوں تو مثالی ہوگی

مل بھی جائے مری خواہش کا صلہ جو مجھ کو
روح اپنی وہی مجبور سوالی ہوگی

یار فکریؔ یہ چمکتے ہوئے جگنو رکھ لے
رات جنگل کی ابھی اور بھی کالی ہوگی

پرکاش فکری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم