MOJ E SUKHAN

عرض کر دیتا ہوں اس سے حال دل

عرض کر دیتا ہوں اس سے حال دل
وہ مرا دم ساز کچھ ہے تو سہی

میں ترے حسن تبسم کے نثار
لطف کا انداز کچھ ہے تو سہی

درد کی دولت میسر ہے مجھے
دل امین راز کچھ ہے تو سہی

مل رہا ہے اک نہ اک غم کا پیام
زیست کا آغاز کچھ ہے تو سہی

عشق کے نغمے ہیں ہر شام و سحر
دل میں سوز و ساز کچھ ہے تو سہی

زندگی ہے معصیت کا آئینہ
پھر بھی اس پر ناز کچھ ہے تو سہی

فیض حافظؔ سے ہمارے جام میں
بادۂ شیراز کچھ ہے تو سہی

وہ بھی صادقؔ گوش بر آواز ہیں
اب میری آواز کچھ ہے تو سہی

صادق دہلوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم