عرض کر دیتا ہوں اس سے حال دل
وہ مرا دم ساز کچھ ہے تو سہی
میں ترے حسن تبسم کے نثار
لطف کا انداز کچھ ہے تو سہی
درد کی دولت میسر ہے مجھے
دل امین راز کچھ ہے تو سہی
مل رہا ہے اک نہ اک غم کا پیام
زیست کا آغاز کچھ ہے تو سہی
عشق کے نغمے ہیں ہر شام و سحر
دل میں سوز و ساز کچھ ہے تو سہی
زندگی ہے معصیت کا آئینہ
پھر بھی اس پر ناز کچھ ہے تو سہی
فیض حافظؔ سے ہمارے جام میں
بادۂ شیراز کچھ ہے تو سہی
وہ بھی صادقؔ گوش بر آواز ہیں
اب میری آواز کچھ ہے تو سہی
صادق دہلوی