MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اس سے بے نام تعلق ہی پہ بدنام ہیں ہم

اس سے بے نام تعلق ہی پہ بدنام ہیں ہم
وہ اگر خوب نہیں کونسے گلفام ہیں ہم

ان سے مل کر نہ کوئی ذکر ہمارا کر دے
بس یہی سوچ کے اس شہر میں گمنام ہیں ہم

ہم نے تصدیق یا تردید میں کچھ بھی نہ کہا
یہ نتیجہ ہے کہ اب موردِ الزام ہیں ہم

اب تو بس خواب کے دامن میں سکوں ملتا ہے
آج کل اس لیے سوتے ہی سرِ شام ہیں ہم

سب تباہی تو نصیبوں کی خرابی سے نہیں
اپنی آشفتہ مزاجی کا بھی انجام ہیں ہم

میرے خوابوں کے بکھرنے کی سزا تجھ کو ملی
تیرے زخموں کا سبب اے دلِ ناکام ہیں ہم

جس کی قیمت میں اداسی بھی ہے تاریکی بھی
دن کی رونق سے الجھتی ہوئی وہ شام ہیں ہم

کوئی تیار نہیں ہاتھ لگانے کو ہمیں
چوم کر جس کو رکھا آپ نے وہ جام ہیں ہم

اب تو سلمان ہمیں خود بھی یہی لگتا ہے
بے سبب گھر میں بپا ہے جو وہ کہرام ہیں ہم

سلمان صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم