MOJ E SUKHAN

بجا کے اس نے ریاضت کی انتہا کر دی

بجا کے اس نے ریاضت کی انتہا کر دی
مگر خیال کی لو شعر سے جدا کر دی

پس حروف کوئی دل کی واردات نہ تھی
سو خوش خطی سے ہی تحریر خوش نما کر دی

نہ دیکھی اس نے کبھی لوح دل پہ ابجد عشق
تو چشم و عارض و لب سے غزل بپا کر دی

کوئی بھی نقطۂ خط زندگی پہ بن نہ سکا
رقم کہیں سے یہ تمثیل دل ربا کر دی

یہ اس کے حرف ہیں آوارگان شہر سخن
مرے خیال نے اس کو زمیں عطا کر دی

جاوید احمد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم