MOJ E SUKHAN

وہ کیوں نہ روٹھتا میں نے بھی تو خطا کی تھی

غزل

وہ کیوں نہ روٹھتا میں نے بھی تو خطا کی تھی
بہت خیال رکھا تھا بہت وفا کی تھی

سنا ہے ان دنوں ہم رنگ ہیں بہار اور آگ
یہ آگ پھول ہو میں نے بہت دعا کی تھی

نہیں تھا قرب میں بھی کچھ مگر یہ دل مرا دل
مجھے نہ چھوڑ بہت میں نہ التجا کی تھی

سفر میں کشمکش مرگ و زیست کے دوران
نہ جانے کس نے مجھے زندگی عطا کی تھی

سمجھ سکا نہ کوئی بھی مری ضرورت کو
یہ اور بات کہ اک خلق اشتراکی تھی

یہ ابتدا تھی کہ میں نے اسے پکارا تھا
وہ آ گیا تھا ظفرؔ اس نے انتہا کی تھی

صابر ظفر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم