MOJ E SUKHAN

کرو اب ختم یہ قصہ نہ تو میری نہ میں تیرا

غزل

کرو اب ختم یہ قصہ نہ تو میری نہ میں تیرا
ہٹاؤ روز کا جھگڑا نہ تو میری نہ میں تیرا

یہ دنیا ٹھیک کہتی ہے محبت آفت جاں ہے
تو بس اب فیصلہ پکا نہ تو میری نہ میں تیرا

یہ اچھا پیار ہے دشنام ہے طعنے ہیں شکوے ہیں
اری ظالم میں باز آیا نہ تو میری نہ میں تیرا

یہ چخ چخ روز کی اپنی اسی صورت میں چھوٹے گی
نہ رکھیں کوئی بھی رشتہ نہ تو میری نہ میں تیرا

الگ سے میں ہوا رسوا نہ کی تو نے کوئی پروا
یہی قسمت میں لکھا تھا نہ تو میری نہ میں تیرا

بالآخر تنگ آ کر کہہ دیا آج اس سے گیلانیؔ
تجھے چاہا میں پاگل تھا نہ تو میری نہ میں تیرا

سلمان گیلانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم