MOJ E SUKHAN

بے سود ہے یہ جوش گریہ اے شمع سحر ہو جانے تک

غزل

بے سود ہے یہ جوش گریہ اے شمع سحر ہو جانے تک
چھینٹا ترے اشک پیہم کا پہنچا نہ کبھی پروانے تک

اے اہل نظر میری ہستی سب کچھ تھی کبھی اب کچھ بھی نہیں
زندہ ہوں مگر مہمان بقا اک سانس کے آنے جانے تک

ہاں غور سے اک خوددار نظر اپنے ہی گریباں پر ناصح
کیا جانے رہے گا کس حد میں دیوانہ ترے سمجھانے تک

اے خاک پریشاں کے ذرو آغوش میں تم مجھ کو لے لو
تمکین و خودی کو ٹھکراتا پہنچا ہوں میں ویرانے تک

آشفتہ نظام ہستی ہے کچھ اور نہ برہم ہو جائے
مشاطۂ فطرت کے ہاتھوں گیسوئے بتاں سلجھانے تک

وعدہ ہے مگر کس عالم میں اک شوخ تغافل فطرت کا
جب لیلئ شب کے بل کھاتے گیسو اتر آئیں شانے تک

دل شاہجہاں پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم