MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

غم ہر اک آنکھ کو چھلکائے ضروری تو نہیں

غم ہر اک آنکھ کو چھلکائے ضروری تو نہیں
ابر اٹھے اور برس جائے ضروری تو نہیں

برق صیاد کے گھر پر بھی تو گر سکتی ہے
آشیانوں پہ ہی لہرائے ضروری تو نہیں

راہبر راہ مسافر کو دکھا دیتا ہے
وہی منزل پہ پہنچ جائے ضروری تو نہیں

نوک ہر خار خطرناک تو ہوتی ہے مگر
سب کے دامن سے الجھ جائے ضروری تو نہیں

غنچے مرجھاتے ہیں اور شاخ سے گر جاتے ہیں
ہر کلی پھول ہی بن جائے ضروری تو نہیں

فنا نظامی کانپوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم