MOJ E SUKHAN

تجھے دیکھنے کو ترستی ہیں آنکھیں

غزل

تجھے دیکھنے کو ترستی ہیں آنکھیں
نہ دیکھیں تجھے تو برستی ہیں آنکھیں

حسینوں کی محفل میں بیٹھے ہو تم بھی
نہ جانے کہاں اب ٹھہرتی ہیں آنکھیں

یہ آنسو نہیں یہ وفا کے ہیں موتی
انہیں سے ہماری نکھرتی ہیں آنکھیں

کرے گی زباں دل کی کیا ترجمانی
سبھی دل کی باتیں تو کرتی ہیں آنکھیں

ان آنکھوں کو کیا حسن بخشے گا کاجل
تجھے دیکھ کر یہ سنورتی ہیں آنکھیں

جھلک جب سے ساغرؔ نے دیکھی ہے تیری
اسی دن سے تجھ پہ یہ مرتی ہیں آنکھیں

عبدالمجید ساغر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم