MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اک میں ہی نہیں باقی کی دنیا تو وہ ہی ہے

اک میں ہی نہیں باقی کی دنیا تو وہ ہی ہے
کیوں شہر ہے ویران تو سنسان گلی ہے

اک دم تو نہیں مدتوں یہ دل میں پلی ہے
دنیا میں ہوا جو یہ بغاوت کی چلی ہے

بند آنکھ کو کر لینے سے طوفاں کی مصیبت
ٹلتی ہے ٹلے گی نہ ٹلی تھی نہ ٹلی ہے

باطل ترے قدموں میں مرا سر نہ جھکے گا
یہ شانِ علی ، وصف علی ابنِ علی ہے

وہ لوگ جنہیں ملتا ہے بے مانگے خدا سے
قسمت میں کہاں انکے یہ دریوزہ گری ہے

فاروق ہے بوبکر ہے عثمان و علی ہے
جو تیری محبت میں فنا وہ ہی ولی ہے

غضنفر علی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم