اک میں ہی نہیں باقی کی دنیا تو وہ ہی ہے
کیوں شہر ہے ویران تو سنسان گلی ہے
اک دم تو نہیں مدتوں یہ دل میں پلی ہے
دنیا میں ہوا جو یہ بغاوت کی چلی ہے
بند آنکھ کو کر لینے سے طوفاں کی مصیبت
ٹلتی ہے ٹلے گی نہ ٹلی تھی نہ ٹلی ہے
باطل ترے قدموں میں مرا سر نہ جھکے گا
یہ شانِ علی ، وصف علی ابنِ علی ہے
وہ لوگ جنہیں ملتا ہے بے مانگے خدا سے
قسمت میں کہاں انکے یہ دریوزہ گری ہے
فاروق ہے بوبکر ہے عثمان و علی ہے
جو تیری محبت میں فنا وہ ہی ولی ہے
غضنفر علی