MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اب کہاں اس کی ضرورت ہے ہمیں

غزل

اب کہاں اس کی ضرورت ہے ہمیں
اب اکیلے پن کی عادت ہے ہمیں

دیکھیے جا کر کہاں رکتے ہیں اب
تیری قربت سے تو ہجرت ہے ہمیں

سانس لیتی ایک خوشبو ہے جسے
ورد کرنے کی اجازت ہے ہمیں

دل جزیرے پر ہے اس کی روشنی
اک ستارے سے محبت ہے ہمیں

اب ذرا سرگوشیوں میں بات ہو
مہرباں لہجے کی عادت ہے ہمیں

پھر اسی چوکھٹ کی دل کو ہے تڑپ
پھر اسی در پر سکونت ہے ہمیں

ہم تحیر کھول دیں گے آنکھ سے
کہ میسر تیری قربت ہے ہمیں

ناہید ورک

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم