MOJ E SUKHAN

تیری خاطر یہ فسوں ہم نے جگا رکھا ہے

تیری خاطر یہ فسوں ہم نے جگا رکھا ہے
ورنہ آرائش افکار میں کیا رکھا ہے

ہے ترا عکس ہی آئینۂ دل کی زینت
ایک تصویر سے البم کو سجا رکھا ہے

برگ صد چاک کا پردہ ہے شگفتہ گل سے
قہقہوں سے کئی زخموں کو چھپا رکھا ہے

اب نہ بھٹکیں گے مسافر نئی نسلوں کے کبھی
ہم نے راہوں میں لہو اپنا جلا رکھا ہے

ہم سے انساں کی خجالت نہیں دیکھی جاتی
کم سوادوں کا بھرم ہم نے روا رکھا ہے

کس قیامت کا ہے دیدار ترا وعدہ شکن
دل بے تاب نے اک حشر اٹھا رکھا ہے

کوئی مشکل نہیں پہچان ہماری فارغؔ
اپنی خوشبو کا سفر ہم نے جدا رکھا ہے

فارغ بخاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم