غزل
تو انتقام لے اپنا مگر مجھے مت چھیڑ
کسی سے کر مرا سودا مگر مجھے مت چھیڑ
ترے چراغ کی لو مضمحل نہ ہونے پائے
اندھیرا کر کے اجالا مگر مجھے مت چھیڑ
تو چور ہے تو عبث مجھ سے حجتیں کیوں ہیں
جو چیز چاہیے لے جا مگر مجھے مت چھیڑ
ترا جنون ہے زیادہ مرے جنوں سے تو پھر
لباس پھاڑ دے میرا مگر مجھے مت چھیڑ
تو تہمات کو زنجیرِ احتساب میں رکھ
برا سمجھ مجھے اچھا مگر مجھے مت چھیڑ
خیال و خواب تو یوں بھی عجیب ہوتے ہیں
خیال بن کے تو سپنا مگر مجھے مت چھیڑ
نچوڑ لے مرے آبِ رواں کو چپکے سے
بنا کے چھوڑ دے صحرا مگر مجھے مت چھیڑ
مجھے تماشا بنا یا تماشبین بنا
تو آنکھ کہ تماشا مگر مجھے مت چھیڑ
مرے شعور کو زچ کرکے لاشعور سے کھیل
ہزار کر مجھے پسپا مگر مجھے مت چھیڑ
محسن اسرار