MOJ E SUKHAN

حصول منزل جاں کا ہنر نہیں آیا

غزل

حصول منزل جاں کا ہنر نہیں آیا
وہ روشنی تھی کہ کچھ بھی نظر نہیں آیا

بھٹک رہے ہیں ابھی زیست کے سرابوں میں
مسافروں کو شعور سفر نہیں آیا

تمام رات ستارہ شناس روتے رہے
نظر گنوا دی ستارہ نظر نہیں آیا

ہزار منتیں کیں واسطے خدا کے دیے
یہ راہ راست پہ وہ راہ بر نہیں آیا

زبان شعر پہ مہر سکوت ہے اب تک
جلال صوت و سخن رنگ پر نہیں آیا

وہ تک رہے ہیں ازل سے فراز گردوں پر
نظر کسی کو بھی نجم سحر نہیں آیا

ہمارے شہر کے ہر سنگ بار سے یہ کہو
ہماری شاخ شجر پر ثمر نہیں آیا

ہر ایک موڑ پہ ہم نے بہت صدائیں دیں
سفر تمام ہوا ہم سفر نہیں آیا

دیار غیر سے میرا وہ سر پھرا بیٹا
گیا ہے گھر سے تو پھر لوٹ کر نہیں آیا

بخش لائلپوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم