MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

حسیں ہے شہر تو عجلت میں کیوں گزر جائیں

غزل

حسیں ہے شہر تو عجلت میں کیوں گزر جائیں
جنون شوق اسے بھی نہال کر جائیں

یہ اور بات کہ ہم کو نظر نہیں آئے
مگر وہ ساتھ ہی رہتے ہیں ہم جدھر جائیں

حیات عشق کا مقصود بن گئی آخر
یہ آرزو کہ ترا نام لے کے مر جائیں

یہ راہ عشق ہے آخر کوئی مذاق نہیں
صعوبتوں سے جو گھبرا گئے ہوں گھر جائیں

پہنچ کے منزل مقصود پر ہی دم لیں گے
کہ چل پڑے ہیں تو کس منہ سے لوٹ کر جائیں

دل ایوبی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم