عجیب شہر کا منظر دکھاٸی دیتا ہے
ہر ایک ہاتھ میں خنجر دکھاٸی دیتا ہے
وہ اشک جو کسی مظلوم کی ہیں پلکوں پر
مجھے وہ اشک سمندر دکھاٸی دیتا ہے
قضاٸے وقت سے سہما ڈرا ڈرا بچہ
وہ آج بھی میرے اندر دکھاٸی دیتا ہے
نگاہ کرتا ہوں جب بھی گناہ پر اپنے
ہر ایک شخص ہی بہتر دکھاٸی دیتا ہے
جسے زمانہ فلک پر تلاش کرتا ہے
مجھے وہ چاند تو چھت پر دکھاٸی دیتا ہے
ہر ایک سمت گرانی کا دور دورہ ہے
یہ مسٸلہ یہاں گھر گھر دکھاٸی دیتا ہے
ہر ایک شخص نصیحت بدست ہے یارو
ہر ایک شخص پیٸمبر دکھاٸی دیتا ہے
یہ کاروانِ وفا کس کی رہبری میں چلے
یہاں پہ ہر کوٸی رہبر دکھاٸی دیتا ہے
غبارِ کارواں نیّر جو آ رہا ہے نظر
امیرِ شہر کا لشکر دکھاٸی دیتا ہے
نیر صدیقی