MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اپنی ناکام تمناؤں کا ماتم نہ کرو

غزل

اپنی ناکام تمناؤں کا ماتم نہ کرو
تھم گیا دور مئے ناب تو کچھ غم نہ کرو

اور بھی کتنے طریقے ہیں بیان غم کے
مسکراتی ہوئی آنکھوں کو تو پر نم نہ کرو

ہاں یہ شمشیر حوادث ہو تو کچھ بات بھی ہے
گردنیں طوق غلامی کے لیے خم نہ کرو

تم تو ہو رند تمہیں محفل جم سے کیا کام
بزم جم ہو گئی برہم تو کوئی غم نہ کرو

بادۂ کہنہ ڈھلے ساغر نو میں فطرتؔ
ذوق فریاد کو آزردۂ ماتم نہ کرو

 

عبدالعزیز فطرت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم