MOJ E SUKHAN

وقت بس رینگتا ہے عمر کے ساتھ

وقت بس رینگتا ہے عمر کے ساتھ
تارہ تارہ گنا ہے عمر کے ساتھ

کتنا آسان سا تعلق تھا
کتنا مشکل ہوا ہے عمر کے ساتھ

پھر سفر نام ہے اذیت کا
راستہ ہانپتا ہے عمر کے ساتھ

کس کی آنکھوں کو نیند چبھتی ہے
کون جاگا رہا ہے عمر کے ساتھ

جانے آرام آئے گا کب تک
درد بڑھنے لگا ہے عمر کے ساتھ

اک گنہ تھا چھپائے رکھا تھا
سامنے آ گیا ہے عمر کے ساتھ

زندگی زندگی نہیں لگتی
کوئی دھوکا ہوا ہے عمر کے ساتھ

صبح کاذب سے شام صادق تک
ایک محشر بپا ہے عمر کے ساتھ

کیسا چہرہ ہے رات کی تفصیل
کون جل کر بجھا ہے عمر کے ساتھ

گرد ماضی ہے وصل کا حاصل
قافلہ ہجر کا ہے عمر کے ساتھ

یاسمین حبیب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم