MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یہاں ہر شخص اپنے گھر سے کم باہر نکلتا ہے

غزل

یہاں ہر شخص اپنے گھر سے کم باہر نکلتا ہے
بدن کھو بیٹھنے کے ڈر سے کم باہر نکلتا ہے

کوئی سودا مرے سر میں سماتا ہی نہیں لیکن
سما جائے تو پھر وہ سر سے کم باہر نکلتا ہے

جہاں سورج برس میں ایک یا دو دن چمکتا ہو
وہاں سایہ کسی پیکر سے کم باہر نکلتا ہے

زمینیں ڈوب جانا چاہتی ہیں پیاس ایسی ہے
مگر سیلاب ہی ساگر سے کم باہر نکلتا ہے

وہ جس حیوان کو پتھر کے اندر رزق ملتا ہو
وہ پتھر کا ہے اور پتھر سے کم باہر نکلتا ہے

نہ جانے کتنی آوازیں بلاتی ہیں اسے لیکن
یہ سناٹا مرے اندر سے کم باہر نکلتا ہے

ابھی آکاش کا رشتہ نہیں ٹوٹا زمینوں سے
مگر وہ ابر کی چادر سے کم باہر نکلتا ہے

امداد آکاش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم