MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہر ایک گام پہ اک بت بنانا چاہا ہے

غزل

ہر ایک گام پہ اک بت بنانا چاہا ہے
جسے بھی چاہا بہت کافرانہ چاہا ہے

ہزار قسم کے الزام اور خاموشی
تعلقات کو یوں بھی نبھانا چاہا ہے

گرائے جانے لگے ہیں درخت ہر جانب
کہ میں نے شاخ پہ اک آشیانہ چاہا ہے

ہے کیوں عداوت اغیار ہی کا ذکر یہاں
چمن تو اہل چمن نے جلانا چاہا ہے

حصار نفرت دور جدید میں دل نے
محبتوں کا پرانا زمانہ چاہا ہے

خدایا دشت نوردی کا شوق ہے کس کو
مسافروں نے فقط آب و دانہ چاہا ہے

چمن میں پھول تصورؔ کھلیں ہر اک جانب
اسی سبب سے تو صحرا بسانا چاہا ہے

یعقوب تصور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم