MOJ E SUKHAN

پرایا کون ہے اور کون اپنا سب بھلا دیں گے

پرایا کون ہے اور کون اپنا سب بھلا دیں گے
متاع زندگانی ایک دن ہم بھی لٹا دیں گے

تم اپنے سامنے کی بھیڑ سے ہو کر گزر جاؤ
کہ آگے والے تو ہرگز نہ تم کو راستہ دیں گے

جلائے ہیں دیئے تو پھر ہواؤں پر نظر رکھو
یہ جھونکے ایک پل میں سب چراغوں کو بجھا دیں گے

کوئی پوچھے گا جس دن واقعی یہ زندگی کیا ہے
زمیں سے ایک مٹھی خاک لے کر ہم اڑا دیں گے

گلہ شکوہ حسد کینہ کے تحفے میری قسمت ہیں
مرے احباب اب اس سے زیادہ اور کیا دیں گے

مسلسل دھوپ میں چلنا چراغوں کی طرح جلنا
یہ ہنگامے تو مجھ کو وقت سے پہلے تھکا دیں گے

اگر تم آسماں پر جا رہے ہو شوق سے جاؤ
مرے نقش قدم آگے کی منزل کا پتا دیں گے

انور جلال پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم