MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اس پار بنتی مٹتی دھنک اس کے نام کی

اس پار بنتی مٹتی دھنک اس کے نام کی
اس پار میں ہوں اور سیاہی ہے شام کی

کن کن بلندیوں سے الجھتا رہا ہے ذہن
یہ آسماں جھلک بھی نہیں اس کے بام کی

الفاظ کی گرفت سے ہے ماورا ہنوز
اک بات کہہ گیا وہ مگر کتنے کام کی

اعجاز دے رہا ہوں اب اپنے ہنر کو میں
شمشیر کے لیے ہے ضرورت نیام کی

اک روشنی سی مجھ پہ اترتی ہے گاہ گاہ
بنیاد اس نے ڈالی پیام و سلام کی

خوشبو کا کوئی رنگ نہ پیکر نہ پیرہن
تصویر ہے مگر ترے طرز خرام کی

بولو کہ تم بھی رکھتے ہو اک سرگزشت رمزؔ
سنبھلو کہ اس نے اپنی کہانی تمام کی

محمد احمد رمز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم