MOJ E SUKHAN
No Record Found
کسی کی زلف کا غزنی اسیر میں بھی ہوںسو پاسدار روایات میر میں بھی ہوں
مجھے بھی دیکھ تو اوروں کو جیسے دیکھتا ھےتری گلی میں رہائش پذیر میں بھی ہوں
محمود غزنی
کیا کسی سے کوئی کہے آخر
تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں
بلندی سے اتارے جا چکے ہیں
بس کہ آغازِ محبت میں ہوا کام اپنا
نہ رنگ و بو ہے نہ کیف و نغمہ نظر میں بھی
قفس کی تیلیوں سے لے کے شاخ آشیاں تک ہے
اس طرح آنکھوں کو نم دل پر اثر کرتے ہوئے
ایسے بچھڑے ایسے اجڑے حال نہ پوچھا دونوں نے
پڑگئی مہنگی اندھیروں سے شناسائی بھی
آتش دلِ زار میں لگائی اس نے رباعی
تھا ہم سے بھی ربط یا کہ نہ تھا
جب سے وہ گئے ادھرنہیں یاد کیا رباعی
یہ حکم خدا کا کہ قطرہ مے کا نہ پیوں – Ye
مومن لازم ہے وضع مرغوب بنے
رباعیات حکیم عمر خیام نیشا پوری
کیا تیری جدائی میں ستم دیکھتے ہیں رباعی امیر مینائی
غائب بہت اے جان جہاں رہتے ہو رباعی امیر مینائی
باغوں میں جو قمریاں ہیں سب مٹی ہیں رباعی قلندر
سب ستارے لٹا دیۓ میں نے
ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں
ہوائے تیز ترا ایک کام آخری ہے
اک چراغِ آرزو پھر سے جلانا ہے مجھے
عشق جب تک جان و دل کا رہنما ہوتا نہیں
رازداں ہم نے بنایا آپ کو
جرم الفت کی سزا دینے لگے
از رہِ التفات بنتی ہے
میں نے تو درد کو سینے میں چھپا رکھا ہے
سنو اے باوفا لڑکے
تمہاری خاطر نقاب اوڑھوں نہ گھر سے نکلوں
تیرے جانے سے کچھ نہیں بدلا
ہو نے سر جو بدلا ہے
ادھر ادھر کی نہ تم سنانا بچھڑنے والے بتا کے جانا
آجکل دل کا عجب حال ہوا ہے جاناں
جا ترے بس میں نہیں یار محبت کرنا
نظم ہونے لگی
سنو میں مان لوں کیسے تمہیں مجھ سے محبت ہے