MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بلندی سے اتارے جا چکے ہیں

غزل

بلندی سے اتارے جا چکے ہیں
زمیں پر لا کے مارے جا چکے ہیں

دکھائے بیچ دریا کون رستہ
فلک خالی ہے تارے جا چکے ہیں

معانی کیا رہے خودداریوں کے
کہ دامن تو پسارے جا چکے ہیں

یہ پورا سچ ہے تم مانو نہ مانو
کہ اچھے دن تمہارے جا چکے ہیں

بھنک تک بھی نہ پہنچی اس کی ہم تک
ہمارے دن گزارے جا چکے ہیں

اب اس اندھے کنوئیں کو بند کر دو
کئی بچے ہمارے جا چکے ہیں

ظفر گورکھ پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم