MOJ E SUKHAN

پڑگئی مہنگی اندھیروں سے شناسائی بھی

پڑگئی مہنگی اندھیروں سے شناسائی بھی
روشنی دیکھتے ہی چھن گئی بینائی بھی

میں کہ سقراط نہ تھا اور یہ سوچا بھی نہ تھا
زہر پلواۓ گی اک دن میری دانائی بھی

روزنِ در کی ہوا روکے گا کب تک کوئی
پھیل ہی جاۓ گی بوۓ گل تنہائی بھی

اپنے میعار سے جھک کر کبھی نیچے دیکھو
میری گہرائی سے ہے آپکی اونچائی بھی

ملک عرفان خانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم