پڑگئی مہنگی اندھیروں سے شناسائی بھی
روشنی دیکھتے ہی چھن گئی بینائی بھی
میں کہ سقراط نہ تھا اور یہ سوچا بھی نہ تھا
زہر پلواۓ گی اک دن میری دانائی بھی
روزنِ در کی ہوا روکے گا کب تک کوئی
پھیل ہی جاۓ گی بوۓ گل تنہائی بھی
اپنے میعار سے جھک کر کبھی نیچے دیکھو
میری گہرائی سے ہے آپکی اونچائی بھی
ملک عرفان خانی