MOJ E SUKHAN

یوں تو مرا اس سے کوئی پردہ بھی نہیں ہے

غزل

یوں تو مرا اس سے کوئی پردہ بھی نہیں ہے
لیکن کبھی میں نے اسے دیکھا بھی نہیں ہے

انسان ہے وہ کوئی فرشتہ بھی نہیں ہے
اس سا کوئی دنیا میں نرالا بھی نہیں ہے

دنیا میں کسی کو کبھی کمتر نہیں سمجھا
میں کون ہوں کیا ہوں کبھی سوچا بھی نہیں ہے

کیا جانیے کیوں لوگ گزر جاتے ہیں کٹ کر
میرا تو کسی سے کوئی رشتہ بھی نہیں ہے

دشمن سے فزوں تر ہے نگہبان کی قوت
شاید مرے دشمن نے یہ سوچا بھی نہیں ہے

کیوں میری صدا سن کے زمانہ ہے غضب میں
ایسا کوئی اونچا مرا لہجہ بھی نہیں ہے

کیوں میرے لیے دار سجایا گیا تابشؔ
میں نے تو کسی کو کبھی ٹوکا بھی نہیں ہے

تابش مہدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم