MOJ E SUKHAN

یہ کیسی صبح ہوئی کیسا یہ سویرا ہے

یہ کیسی صبح ہوئی کیسا یہ سویرا ہے
ہمارے گھر میں ابھی تک وہی اندھیرا ہے

نہ جانے اب کے برس ہاریوں پہ کیا گزرے
پکی ہے فصل تو بادل بہت گھنیرا ہے

کٹے شجر کو نئی رت کا حال کیا معلوم
کہ واسطہ تو یہاں موسموں سے میرا ہے

پرند کیوں نہ اڑیں اس درخت سے زلفیؔ
کمان بن گئیں شاخیں جہاں بسیرا ہے

تسلیم الٰہی زلفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم