MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اس نے رکھی سنبھال کر دنیا

اس نے رکھی سنبھال کر دنیا
میں نے رکھ دی اچھال کر دنیا

ہاتھ اس کے بھی کچھ نہیں آیا
جس نے دیکھی کھنگال کر دنیا

رفتہ رفتہ یہ جڑ پکڑ لے گی
دل سے رکھو نکال کر دنیا

آگئے ہوش اب ٹھکانے پر
اور رکھو سنبھال کر دنیا

اس نے پوچھا کہ کیا چھپایا ہے
میں نے رکھ دی نکال کر دنیا

ایک مدت سے میں نے رکھی ہے
ایک پنجرے میں پال کر دنیا

اور کتنا ستائی گی مجھ کو
کچھ تو میرا خیال کر دنیا

یاسر سعید صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم