MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

پھر عطا ہو جائے آقا روشنی کا پیرہن

پھر عطا ہو جائے آقا روشنی کا پیرہن
تیرہ تیرہ ہوگیا ہے زندگی کا پیرہن

جھکنے لگتی ہیں جبیں پھر آپ کی دہلیز پر
جب پہن لیتا ہے انساں آگہی کا پیرہن

روزِ محشر سامنا کیسے کریں گے آپ کا
فخر کرتے ہیں پہن کر جو بدی کا پیرہن

آپ کے آتے ہی سب گردِ کدورت دھل گئی
ہو گیا شفاف روحِ آدمی کا پیرہن

کیسے ان کو آئے گا نورِ مجسّم کا یقیں
لوگ جب پہنے رہیں گے تیرگی کا پیرہن

مدحتِ سرکار میں جامی رقم کرتے رہو
باعثِ توقیر ہوگا شاعری کا پیرہن

سید معراج جامی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم