MOJ E SUKHAN

اس کو ستم گری میں کسی دل سے کیا غرض

غزل

اس کو ستم گری میں کسی دل سے کیا غرض
قاتل کو بے قراریٔ بسمل سے کیا غرض

جس میں نہ تیری یاد ہو اس دل سے کیا غرض
لیلیٰ نہ ہو تو قیس کو محمل سے کیا غرض

مشق ستم گری نہ کرے وہ محال ہے
اس کو ہمارے اس دل بسمل سے کیا غرض

مجنوں کے دیکھنے کا نہیں اشتیاق کچھ
لیلیٰ کو چاک پردۂ محمل سے کیا غرض

تشنہ ہوں بحر الفت ابروئے یار کا
دریائے آب خنجر قاتل سے کیا غرض

کاٹوں گا آفتاب کی صورت سے تا بہ شام
مجھ گرم رو کو دورئ منزل سے کیا غرض

پروانہ شمع کے لیے آتا ہے بزم میں
دل کو ہمارے مردم محفل سے کیا غرض

کہتا ہے آسمان سے داغ جگر مرا
خود مہر ہوں مجھے مہ کامل سے کیا غرض

سودا کسی کی زلف مسلسل کا ہے مجھے
حداد مجھ کو طوق و سلاسل سے کیا غرض

آیا ہے دام لے کے اسیری کے واسطے
صیاد کو ہے شور عنادل سے کیا غرض

فرط بکا سے آنکھ میں آنسو تھمیں گے کیا
دریائے بے کنار کو ساحل سے کیا غرض

جوش جنوں میں خود کو جو لیلیٰ قرار دے
پھر قیس کو ہو صاحب محمل سے کیا غرض

دیتا ہوں میں اسے تو وہ کہتے ہیں طعن سے
اوروں کا ہو گیا مجھے اس دل سے کیا غرض

دریائے فیض و جود و سخا جس کا بند ہو
پھر اس دنی کو کشتیٔ سائل سے کیا غرض

شاکی نہ ہوں خدا سے میں جب اپنے خون کا
محشر میں پھر ہو دامن قاتل سے کیا غرض

دل جب بتان دہر کے خالی ہوں درد سے
سنگیں دلوں کو پھر ہو مرے دل سے کیا غرض

تیر نظر سے کوئی نشانہ ہو ان کو کیا
ہو بے قرار طائر بسمل سے کیا غرض

جب آپ ہی نہ ہو تو علاقہ کسی سے کیا
سر کٹ گیا تو خنجر قاتل سے کیا غرض

آئیں ہیں دیکھنے کو تماشا وہ رقص کا
مر جائے یا جئے انہیں بسمل سے کیا غرض

ملتے نہیں اگر تو مرے دل کو پھیر دو
مجھ سے غرض نہیں تو مرے دل سے کیا غرض

فاخرؔ کروں سوال میں کیا صورت فقیر
در تک نہ آئے جو اسے سائل سے کیا غرض

فاخر لکھنوئی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم