MOJ E SUKHAN

شامِ غم اوڑھے ہوئے بیٹھا ہوں اپنے لان میں

شامِ غم اوڑھے ہوئے بیٹھا ہوں اپنے لان میں
خواب میرے جل رہے ہیں تیرے آتش دان میں

ظلمتِ شب میں اجالوں کی عیادت کے لیے
اک دیا میں بھی جلا دیتا ہوں روشن دان میں

اس نے میرے گھر میں جس دن انجمن آرائی کی
سینکڑوں جگنو اتر آئے مرے دالان میں

جب شکستِ عشق پر ہنگامہ آرائی ہوئی
اپنے روز و شب مجھے دینے پڑے تاوان میں

ایڑیاں رگڑیں جب اس نے اپنے رب کے سامنے
آبِ زم زم ہوگیا آباد ریگستان میں

حوصلہ دیتا ہوں میں بھی رہروانِ شوق کو
سایہِ دیوار ہوں میں دھوپ کے میدان میں

شہر بھر کی تتلیاں آتی ہیں میرے پاس بھی
ہر طرح کے پھول شامل ہیں مرے گلدان میں

عکس اپنے دیکھ اپنے حال و مستقبل سنوار
آئنے شامل نہیں ہوتے کسی نقصان میں

سندھ کی دھرتی سے ہم کو بھی محبت ہے نثار
پھول ہم نے بھی کھلائے وادیِ مہران میں

ڈاکٹر نثار احمد نثار

 

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم