Aaj uski Baywafaee Nay Hairaan kia Mujhay
غزل
آج اس کی بے وفائی نے حیراں کیا مجھے
وحشت نے دل کی اور پریشاں کیا مجھے
تاریکیوں میں ڈوبی تھی بے نام زندگی
الفت نے تیری شمع فروزاں کیا مجھے
صحن چمن تھا برسوں سے اجڑا ہوا مرا
باد صبا نے پھر سے گلستاں کیا مجھے
غزلوں میں اس نے اپنی حوالہ دیا مرا
اپنے فسانے کا کبھی عنواں کیا مجھے
کہتے ہیں سب کہ عشق ہے اک مرضِ لاعلاج
اس درد لا دوا نے پرشیاں کیا مجھے
کیسی یہ آج اک عجب انہونی ہو گئی
محفل میں اس نے اپنی نمایاں کیا مجھے
تھی سادگی صبیحہ کیا سب پہ اعتبار
اس خو نے میری بے سروساماں کیا مجھے
صبیحہ خان صبیحہ
Sabiha Khan Sabeeha