انا کے بام سے نیچے اتر ، مغرور شہزادے
بغاوت پر رعایا کو نہ کر مجبور شہزادے
رسائی سے اگر ہو دور، کوئی حور شہزادے
تو پھر ہو جاتے ہیں کھٹے وہاں انگور شہزادے
شواہد جرم کے اپنے مٹاتا ہے تو خوبی سے
مگر یہ دونوں شانوں پر جو ہیں مامور ، شہزادے
جہاں کو جیتنا ہے گر ، تو شیوہ انکساری کر
ہے فطرت کے اصولوں کا یہی دستور شہزادے
تجھے طعنے بہت دینے لگے ہیں یہ جہاں والے
بس اب ٹھوکر لگا اس عیش کو غیور شہزادے
یہ خوش پوشی، یہ عیاشی، یہ بزم حسنِ جاناناں
لگا جو ایک چپت غربت کا ، سب کا فور شہزادے
اقبال گوہر