غزل
مسافروں سے کہیں کہ رک کر یہیں پہ آئیں قیام کرلیں ، تھکن مٹائیں
بدن کا سایہ پسند ہو تو انھیں بتائیں قیام کرلیں ، تھکن مٹائیں
مری دعا میں اثر عطا کر مرے خدایا رفاقتوں میں سکون بھر دے
تمام پنچھی مرے نگر میں خوشی منائیں قیام کرلیں ، تھکن مٹائیں
تلاش رزقِ حلال کرتے ہیں جو یہاں پر تری مدد میں مرے خدایا
بھرونا کشکول سب کے خالی فقیر گائیں قیام کرلیں تھکن مٹائیں
زمانے بھر کے رکاوٹوں سے یہ مسئلوں سے الجھتے رہنے کی کیا ضرورت!
محبتوں کے دیے جلائیں سکون پائیں قیام کرلیں تھکن مٹائیں
مرے عزیزو ! مرے اقارب ! ہے میرے کمرے میں حبس کافی ! مجھے معافی
جو میری مانیں کھلی فضا میں کہیں بھی جائیں قیام کرلیں تھکن مٹائیں
سفید ہو جب لہو کی رنگت جگر کے ٹکڑوں سے پھر گلہ بھی فضول ہوگا
مرے بزرگو، خدائے واحد سے لو لگائیں قیام کرلیں تھکن مٹائیں
بڑے بڑے احترام کرتے کلام کرتے ادب سے اُن کو سلام کرتے
ولیؔ کی خاطر بھی جام بھر لیں سماں بنائیں قیام کرلیں تھکن مٹائیں
شاہ روم خان ولی
Shah Room Khan Wali