MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہمیں ہیں مشق ستم ہائے آسماں کے لئے

غزل

ہمیں ہیں مشق ستم ہائے آسماں کے لئے
چنے گئے ہیں ہمیں یاس جاوداں کے لئے

قسم خدا کی نہیں شوق زندگی ہم کو
ہمیں یہ چاہئے اس حسن جاں ستاں کے لئے

اضافہ اور غم جاں ستاں میں ہوتا ہے
اثر بنا ہی نہیں ہے مری فغاں کے لئے

خبر نہیں مرا تنکوں کا ایک جا کرنا
ہے بجلیوں کے لئے یا کہ آشیاں کے لئے

کسی کی تیغ گلے پر چلے تو کیا اس سے
کہاں نشاط شہادت ہے سخت جاں کے لئے

ہزاروں ظلم وہ کرتا ہے اس بہانے سے
ادا تمہاری کھلونا ہے آسماں کے لئے

وہ جو ہے سارے زمانے کا جز ترے بیدلؔ
تڑپ یہ ہے اسی بیگانہ مہرباں کے لئے

بیدل عظیم آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم