MOJ E SUKHAN

بڑے خلوص سے شائستگی سے ملتا ہے

غزل

بڑے خلوص سے شائستگی سے ملتا ہے
مرا حریف بھی مجھ کو خوشی سے ملتا ہے

مجھے وہ ان دنوں زندہ دلی سے ملتا ہے
خوشی یہی ہے کہ اب وہ خوشی سے ملتا ہے

سکون دل کو تو اب درد ہی سے ملتا ہے
یہ لطف وہ ہے جو ہم سائیگی سے ملتا ہے

نہ جانے ان دنوں کیوں شیخ مے گساروں سے
بڑے نیاز بڑی عاجزی سے ملتا ہے

ہے کار نیک ہر اک حال میں جئے جانا
مجھے یہ حوصلہ میری خودی سے ملتا ہے

خلا نورد ہوئے تو پتہ چلا ہم کو
یقیں کا رشتہ کہیں بے بسی سے ملتا ہے

نہیں ہے کوئی بھی شے پائیدار دنیا میں
وہ ایک درس جو ہم کو خوشی سے ملتا ہے

ہمیشہ مجھ سے یہ کہتے ہیں شیخ مے پی کر
مرا مزاج فقط آپ ہی سے ملتا ہے

ذرا بھی فرق نہیں ہے مزاج راحتؔ میں
وہ آج کل بھی اسی سادگی سے ملتا ہے

ااوم کرشن راحت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم