MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

سنا ہے کیچڑ کے سوکھنے پر حیات چولا بدل رہی تھی

غزل

سنا ہے کیچڑ کے سوکھنے پر حیات چولا بدل رہی تھی
شجر سے نیچے اتر کے خلقت نحیف قدموں پہ چل رہی تھی

وسیع رقبے کا بے نہایت خطیر ملبہ سمٹ رہا تھا
ضعیف تارے کی دھونکنی سے مہیب ظلمت ابل رہی تھی

طواف کرتی ہوا کا رونا مطاف میں غل مچا رہا تھا
حرم کے پھاٹک سے بین کرتی کوئی سواری نکل رہی تھی

وبا کی آفت کا تازیانہ سیاہ پشتوں پہ پڑ چکا تھا
نگار خانے کے طاقچے میں خبر کی ہانڈی ابل رہی تھی

فلک کے کوٹھے پہ دیکھتا ہوں نیا ستارہ چمک رہا ہے
زمیں پہ گرنے سے قبل شاید شعاع قرنوں سے چل رہی تھی

سلام کرتی ہوئی سحر کا کواڑ چوپٹ کھلا ہوا تھا
فلک کا نیلم چمک رہا تھا ندی میں چاندی پگھل رہی تھی

سفر کا صفحہ کھلا تو اس پر فنا کا نقشہ بنا ہوا تھا
ہمارا نشہ اتر چکا تھا ہماری مستی سنبھل رہی تھی

احمد جہانگیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم