MOJ E SUKHAN

جب سے قلم کو خامۂ مانی بنا لیا

جب سے قلم کو خامۂ مانی بنا لیا
ہم نے جگر کے خون کو پانی بنا لیا

یوں ہم نے شہر شہر تری داستاں کہی
ہر سنگِ رہ کو دشمنِ جانی بنا لیا

میں نے پرو دیئے ترے بالوں میں سرخ پھول
اور اپنے روز و شب کو کہانی بنا لیا

کیا جانے کس خیال میں اُٹھی تھی وہ نظر!
اور ہم نے اُس سے شہرِ معانی بنا لیا

خالدؔ وہ سانحہ تو اُسے یاد بھی نہیں
جو ہم نے عمر بھر کی نشانی بنا لیا

خالد شریف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم