MOJ E SUKHAN

اک تلاطم میں ہوں شورش میں ہوں چکر میں ہوں

اک تلاطم میں ہوں شورش میں ہوں چکر میں ہوں
رقص کرتا ہوں مگر ترشے ہوئے پتھر میں ہوں

میرے اندر دو صفیں ہیں صرف تیرے واسطے
روز لڑتا ہوں ہے جو خود سے میں اسی لشکر میں ہوں

میرا مالک بھی مری قیمت سے خود واقف نہیں
اک خزانہ ہو کے میں ٹوٹے ھوئے چھپر میں ہوں

میرے ساتھی ڈھونڈتے ہیں مجھ کو میں ملتا نہیں
اور تیرے واسطے میں پھول میں پتھر میں ہوں

جو تری ہے رہگزر اس راستے کا پھول ہوں
جو پسند آنکھیں کریں تیری اسی منظر میں ہوں

خود ہی منزل خود ہی رستہ خود ہی خواہش خود امید
اس سے یوں بچھڑا ہوں جیسے عرصہ محشر میں ہوں

تم جہاں بھی جاؤ گے تم کو نظر آؤں گا میں
خواہش روشن کی صورت اب میں دنیا بھر میں ہوں

تاجدار عادل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم