MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دل اتنی کشاکش سے نکل جائے تو اچھا

غزل

دل اتنی کشاکش سے نکل جائے تو اچھا
یہ پھول کسی آگ میں جل جائے تو اچھا

معیوب جو لہجے ہیں وہ معتوب نہ ہوں گے
اپنا ہی یہ انداز بدل جائے تو اچھا

انسان کو انساں ہی کہا جائے تو بہتر
تشبیہ مہ و مہر بدل جائے تو اچھا

بے نور ستاروں کی گواہی کے بجائے
مژگاں پہ کوئی اشک مچل جائے تو اچھا

ترویج محبت کے لئے شعر کہوں گی
یہ روگ ہر اک ذات میں پل جائے تو اچھا

فرسودہ روی ایسی کہ ہم نے بھی یہ سوچا
دل کوئے ملامت سے نکل جائے تو اچھا

جس نے کبھی ملنے کی بھی پروا نہیں کی ہے
اس تک جو نسیمؔ اپنی غزل جائے تو اچھا

وضاحت نسیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم