MOJ E SUKHAN

تیرے بارے میں نہ سوچوں گی تو مر جاٶں گی

تیرے بارے میں نہ سوچوں گی تو مر جاٶں گی
میں اگر تجھ کو نہ دیکھوں گی تو مر جاٶں گی

تیری یادوں نے ہی بخشا ہے مجھے اوجِ کمال
تیری یادوں میں نہ ڈوبوں گی تو مر جاٶں گی

میں نے الزامِ مَحبت جو لیا ہے سر پر
میں اگر خود کو ہی پرکھوں گی تو مر جاٶں گی

میں ترا دل بھی ہوں اور روح بھی اور جسم بھی ہوں
میں اگر زور سے دھڑکوں گی تو مر جاٶں گی

گُھنگھروٶ ! ٹوٹ نہیں سکتے ہو تم پاٶں میں
یہ تو لِیلا ہے ! جو ناچوں گی تو مر جاٶں گی ؟

تجھ سے دوری ہی مناسب ہے مرے شوخ صنم
میں جو جذبات میں مَچلُوں گی تو مر جاٶں گی

عشق میں قید نہیں , اور نہ کوٸی منزل ہے
میں جو آپے سے نہ گُزروں گی تو مر جاٶں گی

مدیحہ شوق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم